ابنا: کیراون میگزین نے اس معاملے میں ملزم اسیمانند کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ موہن بھاگوت کو دھماکوں کی اطلاع تھی اور دھماکہ کرنے والوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل تھی . میگزین نے اسیمانند سے بات چیت کے ٹیپس بھی جاری کئے ہیں . ادھر، میگزین کے ان الزامات پر بھگوا جماعتوں میں کھلبلی مچ گئی ہے . اسیمانند کے وکیل نے فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی انٹرویو نہیں لیا گیا ہے جبکہ سنگھ نے اسیمانند سے بات چیت کے ٹیپس کو فرضی قرار دیا ہے .دوسری جانب کیراون میگزین نے اپنی کور اسٹوری میں کہا ہے کہ اس نے دو سال کے دوران اسیمانند سے چار بار بات چیت کی . میگزین نے اسیمانند سے بات چیت کے ٹیپس بھی جاری کے ہیں . اس بات چیت کی بنیاد پر میگزین نے دعوی کیا ہے کہ جولائی 2005 میں اسیمانند اور سنیل جوشی سورت میں سنگھ رہنماؤں موہن بھاگوت اور اندریش کمار سے ملے تھے، تب موہن بھاگوت سنگھ سے سربراہ نہیں تھے .میگزین کے مطابق جوشی نے بھاگوت کو ملک بھر میں مسلمانوں کو نشانہ بنا کر دھماکے کا منصوبہ بتایا تھا . اسیمانند کے مطابق دونوں سنگھ رہنماؤں نے اس کی منظوری دی . بھاگوت نے کہا تھا کہ تم یہ کر سکتے ہو، ہم اس میں شامل نہیں ہوں گے لیکن اگر تم یہ کر رہے ہو تو ہمیں اپنے ساتھ ہی سمجھو ۔واضح رہے کہ آر ایس ایس خود کو سماجی تنظیم کہتا ہے لیکن بہت سے حلقے اسے مسلم مخالف شدت پسند تنظیم کہتے ہیں اور بھگوا دہشت گردی کو آر ایس ایس کی دین سمجھتے ہیں۔
.......
/169